ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / کرناٹک میں وزیر اور کانگریس لیڈر کے گھر پر آئی ٹی کے چھاپے؛ حکومت انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ سے رپورٹ مانگے گی : سدارامیا

کرناٹک میں وزیر اور کانگریس لیڈر کے گھر پر آئی ٹی کے چھاپے؛ حکومت انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ سے رپورٹ مانگے گی : سدارامیا

Wed, 25 Jan 2017 23:21:27    S.O. News Service

میسورو، 25جنوری (ایس او نیوز ) حکومت چھوٹی صنعتوں کے وزیر رمیش جارکی ہولی کے مکانات اور جائیدادوں پر کئے گئے چھاپوں پر انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ سے رپورٹ مانگے گی اور رپورٹ حاصل ہونے کے بعد مناسب کارروائی کرے گی۔ وزیراعلیٰ سدارامیا نے یہ بات بتائی۔ انہو ں نے کہا کہ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ ریاستی حکومت کو ایسی معلومات یا رپورٹ فراہم نہیں کرتی ہے، لیکن ہم حال ہی میں گوکک علاقہ میں وزیر جرکی ہولی کے مکان پر کئے گئے چھاپوں پر رپورٹ مانگیں گے، تاکہ مزید کارروائی کی جاسکے ۔ انہو ں نے میسورو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بیلگاوی میں حال ہی میں کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے شعبہ خواتین کی صدر لکشمی ہبالکر کے مکان اور جائیدادوں پر کئے گئے چھاپوں پر بھی رپورٹ مانگی جائے گی۔ یہ چھاپے جو تین دن تک جاری رہے ’میں آئی ٹی کے افسروں نے رمیش جرکی ہولی کی 113کروڑ روپے کی جائیدادوں اور لکشمی ہبالکر کی 38کروڑ روپے کی جائیدادوں کا پتہ چلایا۔سدارامیا نے صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان چھاپوں کے بارے میں انہیں کوئی معلومات نہیں تھیں اور صرف میڈیا کے ذریعہ ہی انہیں اس تعلق سے معلوم ہوا۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے سدارامیا نے موجودہ طورپر کابینہ کی توسیع کے امکان کو مستردکردیا۔اسی دوران کرناٹک حکومت نے خشک سالی سے متاثرہ کسانو ں کو راحت پہنچاتے ہوئے چارہ کی قیمت کو نصف کرنے کا اعلان کیا۔ سدارامیا نے کہا کہ چارہ 3روپے فی کلو کے برخلاف 1.5روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جائے گا۔ حکومت 6روپے فی کلو کی شرح پر یہ چارہ حاصل کررہی ہے ۔ریاست میں مسلسل تیسرے سال بھی مانسون کی ناکامی کے بعد شدید خشک سالی کے سبب مویشیوں کو چارہ کھلانے میں کسانوں کو مشکلات کے سبب چارہ کی قیمت میں کمی کردی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب چارہ کو گرام پنچایتوں سے حاصل کیا جانا چاہئے اور جہاں کہیں بھی ممکن ہو کسانوں کو چارہ اگانے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ۔ سدارامیا نے میسورو میں ریاست کی ترقی پرمیٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں چارہ کے مزید بینکس اور گؤ شالہ کھولے جانے چاہئے ۔کرناٹک سے چارہ کی دیگر ریاستوں کو منتقلی روک دی جانی چاہئے ۔ انہوں نے پولیس حکام سے خواہش کی کہ چارہ لے جانے والی گاڑیو ں کی نقل و حرکت کیلئے اقدامات کرے، تاہم ریاست میں بین ضلعی چارہ کی نقل و حرکت پر پابندی عائد نہیں ہونی چاہئے ۔ سدارامیا نے کہا کہ اگرچہ کہ وسیع پیمانے پر چارہ دستیاب ہے تاہم احتیاطی اقدام کے طور پر حکومت نے افسروں کو ہدایت دی کہ چارہ کا مناسب اسٹاک رکھے ۔ ڈسٹرکٹ انچارج سکریٹریز ایسے کاموں میں تکنیکی مسائل کو دور کریں ۔ انہوں نے کہا کہ فنڈس کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ خشک سالی سے متاثرہ مواضعات کا دورہ کرنے اور عوام کے مسائل پر ردعمل ظاہر کرنے کی افسروں کو ہدایت دیتے ہوئے سدارامیانے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اور ضلع پنچایت چیف اگزیکیٹیو افسر خشک سالی کی صورتحال میں کسی بھی بدانتظامی کیلئے ذمہ دار ہوں گے ۔ پینے کے پانی کی سپلائی کو یقینی بنانے طویل مدتی حل تلاش کرنے کے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ ریاست میں کئی حصوں میں پانی کی قلت کو دور کرنے فنڈس کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ اسی دوران انہو ں نے مسئلہ کے حل میں نقائص پر سخت کارروائی کرنے کا ضلع انتظامیہ کو انتباہ دیا۔ سدارامیا نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پینے کے پانی کی سپلائی او رمویشیوں کو چارہ کی سپلائی کو یقینی بنائیں۔انہو ں نے کہا کہ حکومت نے اس مقصد کیلئے پہلے ہی فنڈس جاری کئے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر مزید فنڈس دستیاب رہیں گے اور راحت اقدامات فوری طور پر کئے جائیں گے ۔ 


Share: